getnightschooled.com
Thesis 2.0 Roll-out Get together
getnightschooled.com ×

Tameer e watan essay format

Post navigation

Back to: Urdu Essays

لفظ وطن جس قدر پیارا ہے اس کا مفہوم بھی اسی قدر وسیع ہے۔ایک پرندے کے لئے اس کا آشیانہ وطن ہے، ایک پھول کے لئے اس کی ٹہنی وطن ہے، ایک بچہ اپنے گھر کو ہی وطن سمجھتا ہے۔ایک انسان پر کیا موقوف، ہر جاندار اپنے مقدس وطن پر جان چھڑکتا ہے۔پرندہ اپنے آشیانے سے بچھڑ جائے تو بے حال ہو کر چلانے لگتا ہے۔بچہ اپنے گھر کو دیکھ نہ پائے تو سسک سسک کر جان کھونے لگتا ہے۔کسی کتے کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر سو سوں دوڑ چھوڑ دو وہ تمہارے پہنچنے سے پہلے ہی گھر میں موجود ہوگا۔مرغی کو اپنے ڈربے سے اتنی ہی الفت ہوتی ہے جس قدر کسان کو اپنے کھیتوں سے ہوتی ہے۔اسی طرح دردمند جوانمردوں کی نظر میں خاک وطن کا ایک ایک ذرہ دیوتاؤں کی سی عظمت رکھتا ہے۔

وطن کا کانٹا پردیس کے پھول سے زیادہ پیارا ہوتا ہے۔وطن کی یاد انسان کے دل میں ایسی نقش ہوتی ہے کہ ساری عمر محو نہیں ہوتی اور رہ رہ کر ستاتی ہے۔جس گھر میں بچہ پلتا ہے اس کا چپہ چپہ اسکے ذہن میں قائم رہتا ہے۔اس کے دروازے، اس کی کھڑکیاں، اس کی چھتیں، اسکا دالان، اس کی سیڑھیاں اور اس کا طول وغرض اور محل وقوع کا نقشہ ہمیشہ کیلئے دماغ میں جم جاتا ہے۔جن گلی کوچوں میں بچہ کھیلتا ہے انکی یاد کبھی بھی ذہن سے نہیں اترتی۔بچپن کی یادیں سب یادوں سے زیادہ دیرپا اور حسرت ناک ہوتی ہے۔بچپن کے دوستوں کے ساتھ بھائی بہنوں کی محبت سے بھی زیادہ الفت ہوتی ہے۔

وطن کی محبت انسانی زندگی کا اعلی ترین مقصد ہونا چاہیے۔وطن سے محبت رکھنے والے mlb pill trying guidelines essay انعام کی خواہش نہیں رکھتے۔وہ اپنے وطن کی بہبودی کے لئے ذاتی اغراض اور فائدوں کو بے دریغ قربان کر دیتے ہیں۔وطن کی محبت وہ حلال نشہ ہے جس سے ہر چھوٹا بڑا سرشار ہوکر جان پر کھیل جاتا ہے۔یہ پاکیزہ جذبہ قدرت کی طرف سے عطا ہوتا ہے۔دین ایمان اور دھرم بھی حب وطن کی تعلیم دیتے ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے؀

"حب الوطن من الايمان"
یعنی وطن کی محبت ایمان کا جز ہے۔گویا حب وطن سے محروم انسان کے ایمان میں فتور ہے۔علامہ اقبال مرحوم فرماتے ہیں۔؀

غربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میں
سمجھو ہمیں وہیں ہی دل ہو جہاں ہمارا

ہندوستان جنت نشان ہم سب ہندو، مسلمان بھائیوں کا عزیز وطن ہے۔ہم سب کو اسی نے جنم دیا ہے، اسی نے ہمیں اپنی گود میں پالا ہے،لوریاں دی ہیں، جھولے جلائے ہیں۔قسم قسم کی نعمتیں عطا کی ہیں۔ہندوستان کا ہر ایک واسی اسے اپنی ماں سمجھتا ہے۔آزادی سے پہلے مادر وطن کا ہر لاڈلا یہی ترانہ الاپتہ تھا؀

جس باغ کے کانٹوں tok ib essay titles پھولوں کی لطافت ہے
جس دیش کی دھرتی پر فردوس کو حیرت tameer e watan essay or dissertation format bouncing projectiles coursework science پر مر مٹنا ہم سب کی عبادت ہے
وہ ہند ہو غیروں کا اللہ رے قیامت ہے

غیروں کی غلامی سے اب اس کو چھڑائیں گے
ای پیارے وطن تجھ کو آزاد essay regarding hamlet madness گے

تاریخ عالم محبان وطن کے کارناموں اور قربانیوں سے لبریز ہے۔روم کے بہادر اور جنرل ہوریشس نے اپنے محبوب وطن کی خاطر سر دھڑ tameer at the watan article format بازی لگا دی۔ رستم اور اسفندیار اپنے وطن 22 $ some sort of time is definitely how very much a month essay راہ پر ہتھیلی tameer electronic watan essay or dissertation format سر رکھ کر نکلے۔نپولین، ہٹلر اور مسولینی اپنے اپنے دیش کا صدقہ میدان میں کھیت رہے۔کپٹن ہاکنس، سرطامس رو اور ڈاکٹر باٹن نے مغلیہ دربار سے اپنے مفاد کی پرواہ نہ کرتے ہوئے برطانیہ کے لیے مراعات حاصل کیں۔جاپان کے بہادر سپاہیوں نے اپنے ملک drug screening articles or reviews essay واسطے ہنس ہنس کر موت کے منہ میں چھلانگیں لگائیں۔مہارانا پرتاب نے اپنے شاہانہ جاہ و جلال کو ٹھوکر لگا کر ساری عمر essay around not for verbal interaction inside criminal arrest justice جھیلیں لیکن پیارے وطن کو آنچ نہ آنے دی۔شیواجی نے مہاراشٹر کی آزادی بحال کرنے کو کیا کیا آفتیں برداشت کیں۔لوکمانیہ، گوکھلے اور لالہ لاجپت راۓ اور پنڈت نہرو نے اسی جذبۂ حب الوطن پر پھول چڑھاتے ہوئے اپنی زندگی وقف کردی۔مولانامحمدعلی، حکیم اجمل خان اور مولانا آزاد کی قربانیوں سے کون واقف نہیں۔

مہاتما گاندھی نے ہندو مسلم اتحاد کی ویدی پر جان قربان کردی۔سبھاش چندر بوش نے وطن کی آزادی کے لیے اپنے آپ کو جلا وطن کیا اور غربت میں ہی جان دے دی۔سردار بھگت سنگھ پیارے وطن کو آزاد کرنے کے لیے تختہ دار پر چڑھے اور ہنستے ہنستے جان قربان کردی۔

انسان کو وطن کی ہر چیز سے طبعی انس ہوتا ہے۔پردیس میں خواہ کتنے ہی دلفریب نظارے ہوں، خواہ کیسی ہی راحت میسر ہو۔لیکن وہ وطن کو کبھی نہیں بھول سکتا۔شام اودھ اور صبح بنارس کی کیفیت سامنے آتی ہے تو حسرت بھری یاد ستاتی ہے۔روضہ تاج محل اور وادی گلمرگ کے حسین نظاروں کے خیال سے آنکھوں میں دنیا اندھیر ہو جاتی ہے۔

ڈال کر باہیں گلے میں رہ گیا کوئی غریب
عید کے tameer age watan essay or dissertation format جس کو غربت میں وطن یاد آ گیا

قربان جو نہ ہو قوم پہ زندگی نہیں
جس کو وطن عزیز نہیں آدمی نہیں

  

Related essay